After Learning Reiki

ریکی سیکھنے کے بعد

ایک وقت تھا جب ریکی سیکھنے میں کافی وقت لگا کرتا تھا۔ سکھانے والے تفصیل اور تسلی سے سکھاتے تھے اور سیکھنے والے صبر اور سکون کے ساتھ سیکھتے تھے۔ زبانی تفصیلات کے ساتھ پریکٹس لازمی ہوا کرتی تھی۔ ریکی کی تربیت کے ساتھ طالبعلم کی روحانی تربیت بھی کی جاتی تھی۔ تمام طالبعلم اُستاد کی ہدایات پر چوں چراں کئے بغیر عمل کرتے تھے۔ اس طرح تربیت کا نتیجہ یہ ہوتا تھا کہ طالبعلم کی سوچ مثبت اور اس کی ریکی استعمال کرنے کی صلاحیت بہت اچھی ہو جاتی تھی مگر وقت کے ساتھ ساتھ سب کچھ بدل گیا۔

اب صورت حال کچھ ایسی ہو چکی ہے کہ ہر کوئی جلدی میں ہے۔ اکثریت کے پاس کلاس میں چند گھنٹے تسلی سے لیکچر سننے کا بھی وقت نہیں ہوتا۔ تقریباً سب چاہتے ہیں کہ چند منٹوں میں صرف اٹیونمنٹ لیں اور واپس جا کر اپنی صلاحیت کا ڈنکا بجا دیں۔ یوں ریکی سکھانے اور سیکھنے کے طریقے بدل چکے ہیں مگر اس کے باوجود کچھ چیزیں بدلی ہیں نہ بدلیں گی۔ ان میں سرِفہرست ریکی کے اصولوں پر عمل اور تربیت کے بعد ریکی کا باقاعدہ استعمال ہے۔

ریکی کے اصول وہی ہیں جو ہر مذہب سکھاتا اور ان پر عمل کی تلقین کرتا ہے۔ ان کا تعلق اخلاقیات اور سماجی رویے سے ہے جو لازی طور پر مثبت ہونا چاہیئے۔ دوسری صورت میں ریکی سیکھ لینے کے باوجود اچھے نتائج ملنے کا امکان بہت کم ہوتا ہے کیونکہ بُرا اور غیر اخلاقی رویہ منفی توانائیوں کو دعوت دیتا ہے جن کے انسانی زندگی پر اثرات کبھی مثبت نہیں ہوتے۔

یہ کوئی پوشیدہ حقیقت نہیں کہ پریکٹس کے بغیر کسی بھی شعبے میں مہارت حاصل نہیں کی جا سکتی۔ ریکی کے سلسلے میں بھی ایسا ہی ہے۔ اگر اسے باقاعدگی سے استعمال نہ کیا جائے تو اس کا بہائو کمزور سے کمزور تر ہوتا جاتا ہے اور رفتہ رفتہ اچھے نتائج ملنا بند ہو جاتے ہیں۔ گو کہ توانائی کا بہائو بلکل موقوف نہیں ہوتا مگر کمزور یقیناً ہو جاتا ہے۔ اس صورتِ حال سے بچنے اور توانائی کے بہائو کو درست رکھنے کے لئے ریکی کو روزانہ کی بنیاد پر باقاعدگی سے استعمال کرنا چاہیئے۔ ان باتوں پر ذرا غور کیا جائے تو یہی نتیجہ نکلتا ہے کہ اگر کسی کی ریکی کی توانائی کا بہائو تسلی بخش نہیں ہے تو اس میں قصور ریکی کا نہیں بلکہ اس کا اپنا ہوتا ہے۔

Popular Posts